حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یومِ صحافت کے موقع پر امام شہید، سیدالشہداء جمہوری اسلامی ایران کے ذرائع ابلاغ اور صحافی کی اہمیت کے حوالے سے دیے گئے بیانات کے منتخب حصے پیش خدمت ہیں:
مطبوعات کا سیاسی شعور بڑھانے اور سازشوں کا مقابلہ کرنے میں کردار
مطبوعات سے وابستہ افراد کو زندگی کے عمومی مسائل اور سماجی تحولات کے حوالے سے دوسروں کی نسبت زیادہ معرفت، بصیرت، روشن فکری اور صحیح تشخیص کی صلاحیت کا حامل ہونا چاہیے۔ اسی بنیاد پر ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک اور معاشرے کے عوام کو ضروری آگاہی فراہم کریں۔
عوام میں سیاسی فہم و شعور، تجزیے کی صلاحیت اور سیاسی رجحانات و محرکات کی شناخت کو فروغ دینا، خبر رساں اداروں کی سازشوں اور ان کے حربوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔
آج کی دنیا میں صحافتی برادری کو عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے، سیاسی فکر کو فروغ دینے اور سیاست کے حوالے سے عوام کی سنجیدگی و دلچسپی بڑھانے کی سمت میں حرکت کرنی چاہیے کیونکہ سیاسی شعور رکھنے والا معاشرہ کم آسیب پذیر ہوتا ہے۔
عوام میں سیاسی فہم و ادراک، تجزیے اور سیاسی لہروں، رجحانات اور محرکات کی شناخت کی صلاحیت میں اضافہ، بڑے خبر رساں اداروں کی سازشوں اور ان کے حربوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے مطبوعات کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
صحافتی معاشرے میں وہ عناصر جو مطبوعات کی قطعی اور ناقابلِ تفریق ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے، وہ صحافتی ناانصافی اور اخلاقی انحراف کے مرتکب ہوتے ہیں۔ (۱۳۷۵/۰۲/۱۳)
آزادیِ صحافت، ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری اور معاشرے کا تحفظ
آج آزادی کے ساتھ مطبوعات کی جو حقیقی ذمہ داری مطرح ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ صحافت کی ایک منزل اور مقصد ہے اور اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ایک وسیلے کی ضرورت ہے، جس کا نام ’’آزادی‘‘ ہے۔
آزادیٔ صحافت کو مطبوعات کی ذمہ داری کی تکمیل کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ یہ کہ صحافت کی ذمہ داری کو بے لگام اور ہمہ جہت آزادی کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔ یہی وہ چیز ہے جس کے حصول کے لیے مغربی اور مغرب زدہ منصوبہ ساز اور کارپرداز آج سرحدوں کے اُس پار بھی کھلے طور پر کوشش کر رہے ہیں اور درحقیقت انہوں نے اب کھلم کھلا اپنا محاذ کھول دیا ہے۔ (۱۳۷۵/۰۸/۰۹)
ہمیں معاشرے کے ماحول کو بھائی چارے، محبت اور حسنِ ظن کا ماحول بنانا چاہیے۔ میں ہرگز اس بات کا حامی نہیں ہوں کہ معاشرے میں بدگمانی اور سوء ظن کی فضا پیدا کی جائے۔
ہمیں ان عادات کو اپنے اندر سے ختم کرنا ہوگا۔ افسوس کہ یہ رواج بن گیا ہے کہ اخبارات، ذرائع ابلاغ اور مختلف مواصلاتی ذرائع، جو روز بروز زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، ایک دوسرے پر الزام تراشی کا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ یہ ہمارے دلوں کو تاریک اور ہماری زندگی کے ماحول کو ظلمت زدہ کر دیتا ہے۔
ہم مسلسل ذمہ داران اور عوام دونوں کو یہ تاکید کرتے ہیں کہ خود کو غیر ضروری اور ثانوی مسائل میں مشغول نہ کریں۔ اسی لیے مطبوعات، ذرائع ابلاغ، اخبارات اور آج کے دور میں رائج انٹرنیٹ (اور سوشل میڈیا) پلیٹ فارمز کو بار بار سفارش کی جاتی ہے کہ ایسی غلط اور نادرست باتوں اور مطالب کو عوام کے ذہنی ماحول میں داخل کرنے سے پرہیز کریں جو لوگوں کے ذہنوں کو غیر ضروری طور پر مشغول کردیں۔
افواہ سازی اور بہتان تراشی سے اجتناب؛ عوامی اعتماد کا تحفظ
بعض افراد، خواہ صحافت سے وابستہ ہوں یا مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہوں، کسی نصیحت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ ہم سے مشورہ نہیں مانگتے۔ معلوم نہیں بعض اداروں، مطبوعات اور ذرائع ابلاغ کی پالیسیاں کون اور کہاں طے کرتا ہے۔ بعض لوگوں کا مفاد ہی اختلاف پیدا کرنے میں ہے۔
لیکن جو لوگ ملک کے مفادات کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ حقائق غالب آئیں، میری ان سے گزارش ہے کہ وہ جزوی اور غیر اصولی اختلافات سے صرفِ نظر کریں۔
افواہ سازی اور افواہ پھیلانا درست نہیں ہے۔ انسان دیکھتا ہے کہ بعض لوگ کھلے عام ملک کے ان ذمہ داران پر الزام تراشی کرتے اور ان کے خلاف افواہیں پھیلاتے ہیں جو ملک کی ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں فرق نہیں پڑتا کہ وہ صدرِ مملکت ہوں، پارلیمنٹ کے سربراہ ہوں، مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہوں یا عدلیہ کے سربراہ؛ یہ سب ملک کے ذمہ دار عہدیدار ہیں۔ (۱۳۹۱/۱۰/۱۹)
ملک کے ذمہ داران وہ افراد ہیں جنہیں کسی معاملے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ عوام کو ان پر اعتماد اور حسنِ ظن رکھنا چاہیے۔ افواہیں نہیں پھیلانی چاہئیں۔ دشمن یہی چاہتا ہے کہ افواہ سازی کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے اور ملک کے ذمہ داران کے بارے میں بدگمان کیا جائے۔
مجرموں اور ملزمان کی عزتِ نفس کا تحفظ اور خاندانوں کی حرمت
اگر فرض کرلیا جائے کہ کسی شخص نے جرم کیا ہے، عدالتِ صالح میں اس کا جرم ثابت بھی ہوگیا ہے اور اسے سزا بھی سنادی گئی ہے، حتیٰ کہ وہ جیل چلا گیا ہے، تو آخر کیا ضرورت ہے کہ ہم اخبارات میں اس کا نام شائع کریں تاکہ اس کا بچہ، جو اسکول جاتا ہے، شرمندگی کے باعث اسکول جانے کے قابل نہ رہے؟
کیا یہ بہتر نہیں کہ وہ اپنی سزا پوری کرے، جیل سے باہر آئے اور وہ اور اس کا خاندان اپنی معمول کی زندگی جاری رکھیں؟ اس نے جرم کیا، اسے سزا مل گئی، معاملہ ختم ہوگیا۔ کیا اس کی مزید آبرو ریزی بھی ضروری ہے؟ یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔
اس خطاب کا مخاطب صرف عدلیہ نہیں؛ عدلیہ کے ذمہ داران، عدلیہ سے باہر کے ذمہ دار افراد اور ذرائع ابلاغ بھی اس کے مخاطب ہیں۔
ایک طرف عدلیہ کی کارکردگی کو بلاوجہ نشانہ نہیں بنانا چاہیے کہ عدلیہ جو بھی اقدام کرے، اس کے پیچھے کسی سازش یا غرض کو تلاش کیا جائے۔ دوسری طرف محض کسی شخص کے متہم ہونے کی بنیاد پر اس الزام کو عام، واضح اور افکارِ عامہ کا موضوع بھی نہیں بنانا چاہیے۔
آخر افکارِ عامہ کو اس بات سے کیا فائدہ حاصل ہوگا کہ فلاں شخص پر کسی خلافِ قانون عمل کا الزام ہے؟ اس پہلو پر ضرور توجہ دینی چاہیے۔(۱۳۹۰/۰۴/۰۶)
تنقید سننے میں وسعتِ قلب اور تعمیری و تخریبی تنقید میں فرق
تنقید سننے کے لیے کشادہ دل، کھلا ذہن اور سننے والے کان رکھنے چاہئیں۔ اگر کوئی آپ پر تنقید کرے تو اس میں کوئی نقصان نہیں۔ البتہ جو تنقیدیں کی جاتی ہیں، وہ سب ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
بعض تنقیدیں اصلاح کے مقصد سے نہیں بلکہ تخریب کے لیے ہوتی ہیں۔ ہم اسے دیکھ رہے ہیں؛ ہمارے اپنے مطبوعاتی حلقوں میں بھی اور ان کے پشت پناہ عناصر میں بھی۔ درجنوں غیر ملکی ریڈیو، ٹیلی ویژن اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ ایسے افکار و نظریات کو پیش کرتے ہیں جن کی بنیاد تخریب و فساد پر ہے۔ ان کا مقصد اصلاح نہیں ہوتا۔ وہ جو کچھ نقل اور بیان کرتے ہیں، تخریب کے لیے کرتے ہیں۔ اسی لیے ان میں حقیقت، غیر حقیقت، خلافِ واقعہ اور بے بنیاد باتیں سب کچھ شامل ہوتا ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی بات کو بڑا بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور کبھی کسی ایسی بات کو، جو سرے سے موجود ہی نہیں، ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر پیش کردیا جاتا ہے۔ یہ تخریب ہے۔
لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ تنقید بھی موجود ہے؛ ایسی تنقید جو اصلاح اور خیرخواہی پر مبنی ہو۔ کبھی یہ تنقید آپ کے دوستوں کی جانب سے ہوتی ہے اور کبھی ایسے لوگوں کی طرف سے بھی ہوتی ہے جو نہ آپ کے دوست ہیں اور نہ آپ کے حامی۔ لیکن وہ آپ کے دشمن بھی نہیں ہیں اور ان کی دشمنی بھی ثابت نہیں ہوئی۔ وہ صرف تنقید کررہے ہیں۔
انسان کو ایسی تنقید بھی سننی چاہیے۔ ممکن ہے ان تنقیدوں کے درمیان کوئی ایسی بات موجود ہو جو ہمارے لیے مفید ہو۔ بہرحال اس معاملے میں وسعتِ قلب اور کشادہ نظری سے کام لینا چاہیے۔(۱۳۸۸/۰۶/۱۶)









آپ کا تبصرہ